۹۲۸ : وَحَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ، قَالَ : ثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ، قَالَ : ثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ جُرَیْجٍ، أَنَّہٗ قَالَ لِأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (مَا إفْرَاطُ صَلَاۃِ الْعِشَائِ؟) قَالَ : طُلُوْعُ الْفَجْرِ .فَھٰذَا أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ جَعَلَ إفْرَاطَہَا الَّذِیْ بِہٖ تَفُوْتُ، طُلُوْعَ الْفَجْرِ .وَقَدْ رَوَیْنَا عَنْہُ (عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّہٗ صَلَّی الْعِشَائَ فِی الْیَوْمِ الثَّانِیْ - حِیْنَ سُئِلَ عَنْ مَوَاقِیْتِ الصَّلَاۃِ- بَعْدَمَا مَضٰی سَاعَۃٌ مِنَ اللَّیْلِ) .وَفِیْ حَدِیْثِہٖ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ : (وَقْتُ الْعِشَائِ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ) .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ وَقْتَہَا إِلٰی طُلُوْعِ الْفَجْرِ وَلَکِنْ بَعْضُہٗ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ .وَجَمِیْعُ مَا بَیَّنَّا مِنْ ھٰذِہِ الْأَقَاوِیْلِ، فِیْ ھٰذَا الْبَابِ، قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ، وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُ اللّٰہُ إِلَّا مَا بَیَّنَّا مِمَّا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنْ وَقْتِ الظُّہْرِ .فَإِنَّ أَبَا حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ قَالَ : ہُوَ إِلٰی أَنْ یَصِیْرَ الظِّلُّ مِثْلَیْہِ، ھٰکَذَا رَوٰی عَنْہُ أَبُوْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ۔
٩٢٨: عبید بن جریج سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سوال کیا نماز عشاء میں حد سے گزرنا کیا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا طلوع فجر۔ اس روایت میں حضرت ابوہریرہ (رض) نے طلوع فجر کو نماز عشاء کے فوت ہونے کا وقت قرار دیا اور اس کو افراط و زیادتی سے تعبیر کیا حالانکہ امامت جبرائیل (علیہ السلام) کے سلسلہ میں یہی حضرت ابوہریرہ (رض) دوسرے دن کی نماز بعد مامضی ساعۃً من اللیل نقل کرچکے اور دوسری روایت میں وقت العشاء الی نصف اللیل بھی فرما چکے تو ان کا طلوع فجر تک نماز عشاء کے وقت کو قرار دینا ثابت کرتا ہے کہ نماز عشاء کا وقت اختتام تو طلوع فجر ہے البتہ ثلث لیل سے اس وقت تک کے اوقات وہ ایک دوسرے سے فضیلت میں کم اور زیادہ ہیں۔ یہ حضرت ابوہریرہ (رض) ہیں کہ انھوں نے طلوع فجر تک اس کے مؤخر کرنے کو افراط قرار دیا حالانکہ ہم جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کر آئے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز دوسرے دن رات کا کچھ حصہ گزرنے پر ادا فرمائی اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز کے اوقات کے سلسلہ میں سوال کیا گیا اور ابوہریرہ (رض) کی روایت میں ہے کہ عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے۔ پس اس سے ثابت ہوگیا کہ اس کا وقت تو طلوع فجر ہے لیکن وقت کا کچھ حصہ دوسرے سے افضل ہے۔ یہ تمام اقوال جو اس باب میں مذکور ہوئے یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور امام محمد (رح) کا قول ہے۔ سوائے اس کے کہ وقت ظہر میں اختلاف ہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ظہر کا وقت ہر چیز کا سایہ دوگنا ہونے تک رہتا ہے اور امام ابویوسف (رح) کا قول بھی اسی طرح ہے۔ یہ تمام روایات امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف و محمد (رح) کا قول ہیں۔
وقت ظہر میں ثبوت رجوع :
البتہ ظہر کے سلسلہ میں امام صاحب کا مسلک یہ ہے کہ اس کا آخری وقت مثلین کی مقدار سایہ ہوجانے پر ہے۔
اور ابو یوسف کا قول بھی ان کے موافق ہے جیسا کہ محمد بن خالد کندی نے علی بن معبد عن محمد بن الحسن عن ابی یوسف نقل کیا ہے۔