۹۳۱ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبِیْ عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی، عَنْ أَبِیْ قَیْسِ ڑ الْأَوْدِیِّ، عَنْ ہُزَیْلِ بْنِ شُرَحْبِیْلَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَجْمَعُ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ فِی السَّفَرِ) .
٩٣١: ابو قیس الاودی نے ہذیل بن شرحبیل سے اور انھوں نے ابن مسعود (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں دو نمازوں کو جمع فرما لیتے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلاۃ ٢؍٤٥٨۔
خلاصہ الزام : صورۃً دو نمازوں کو جمع کرنا کہ ایک کو اس کے آخری وقت اور دوسرے کو اول وقت میں پڑھنے کے جواز میں کسی کو کلام نہیں۔
جمع حقیقی کے متعلق اختلاف ہے۔
فریق اوّل : امام مالک و شافعی وعطاء بن رباح وغیرہ (رح) کے ہاں جمع حقیقی سفر و حضر میں مطلقاً جائز ہے شوافع سفر و مرض کی قید بھی لگاتے ہیں۔
فریق دوم : مطلقاً سفر و حضر و مرض و صحت کسی صورت بھی یہ جائز نہیں یہ امام ابوحنیفہ (رح) و صاحبین (رح) و حسن بصری (رح) کا مسلک ہے۔