۹۳۵ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ یَحْیٰی قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إدْرِیْسَ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ، قَالَ : أَنَا جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ، أَنَّہٗ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، یَقُوْلُ : (صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِیْنَۃِ ثَمَانِیًا جَمِیْعًا، وَسَبْعًا جَمِیْعًا .قُلْتُ لِأَبِی الشَّعْثَائِ : أَظُنُّہٗ أَخَّرَ الظُّہْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَائَ، قَالَ : وَأَنَا أَظُنُّ ذٰلِکَ) .
٩٣٥: عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت جابر بن زید (رض) نے خبر دی کہ انھوں نے ابن عباس (رض) سے سنا کہ وہ فرماتے تھے میں نے مدینہ منورہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آٹھ رکعات اور سات رکعات اکٹھی ادا کیں میں نے ابوالشعثاء سے سوال کیا میرے خیال میں آپ نے ظہر کو مؤخر اور عصر کو جلد ادا کیا ہوگا اور مغرب کو مؤخر اور عشاء کو جلد پڑھا ہوگا کہنے لگے میرا خیال بھی یہی ہے۔
تخریج : روایت سابقہ کی تخریج ملاحظہ کریں۔