۹۴۸ : مَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا عَازِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ أَیُّوْبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اُسْتُصْرِخَ عَلٰی صَفِیَّۃَ بِنْتِ أَبِیْ عُبَیْدٍ، وَہُوَ بِمَکَّۃَ، فَأَقْبَلَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَسَارَ حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَبَدَتِ النُّجُوْمُ، وَکَانَ رَجُلٌ یَصْحَبُہٗ، یَقُوْلُ : الصَّلَاۃَ الصَّلَاۃَ .قَالَ : وَقَالَ لَہٗ سَالِمٌ : الصَّلَاۃَ .فَقَالَ : (إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا عَجَّلَ بِہِ السَّیْرُ فِیْ سَفَرٍ، جَمَعَ بَیْنَ ہَاتَیْنِ الصَّلَاتَیْنِ) ، وَإِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أَجْمَعَ بَیْنَہُمَا فَسَارَ حَتّٰی غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَیْنَہُمَا .
٩٤٨: ایوب نے نافع سے اور انھوں نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) کو صفیہ بنت ابی عبید (رض) کی بیماری کی اطلاع ملی جبکہ وہ مکہ میں تھے وہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے غروب آفتاب تک چلتے رہے یہاں تک کہ ستارے ظاہر ہوگئے اور جو آدمی ان کے ساتھ تھا وہ الصلاۃ الصلاۃ پکار رہا تھا اور راوی کہتے ہیں سالم نے ان کو کہا الصلاۃ تو کہنے لگے جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سفر میں جلدی ہوتی تو مغرب و عشاء ان دو نمازوں کو جمع فرماتے اور میں بھی دونوں کو جمع کرنا چاہتا ہوں چنانچہ وہ چلتے گئے یہاں تک کہ شفق غائب ہوگیا پھر اترے اور ان دونوں کو جمع کیا۔
تخریج : ابو داؤد ١؍١٧٠‘ ترمذی ١؍١٢٤۔