۹۷۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَفَّانُ، قَالَ ثَنَا حَمَّادٌ قَالَ : أَنَا عَطَائُ الْخُرَاسَانِیُّ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، قَالَ : (کَانَتِ الصَّلَاۃُ الَّتِیْ أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُحَرِّقَ عَلٰی مَنْ تَخَلَّفَ عَنْہَا صَلَاۃَ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ) .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ خِلَافُ ذٰلِکَ کُلِّہٖ وَأَنَّ ذٰلِکَ الْقَوْلَ، لَمْ یَکُنْ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِحَالِ الصَّلَاۃِ، وَإِنَّمَا کَانَ لِحَالٍ أُخْرٰی .
٩٧٥: عطاء خراسانی سے سعید بن المسیب سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھر جلانے کی دھمکی جس نماز کے متعلق دی وہ نماز عشاء ہے۔ اور حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے اس سب کے خلاف روایت آئی ہے کہ آپ کا یہ قول نماز کے لیے نہ تھا بلکہ اور حاجت کے لیے تھا۔
حاصل روایات : حضرت ابوہریرہ (رض) کے بیان اور سعید بن المسیب کے قول سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ جس نماز کے لیے گھر جلانے کی دھمکی دی گئی وہ نماز عشاء ہے پس یہ دھمکی اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہے کہ یہ صلوۃ وسطیٰ ہے جیسا زید بن ثابت (رض) کی روایت سے سمجھا گیا۔ اور روایت جابر (رض) سے تو اس کے بھی خلاف بات ثابت ہوتی ہے وہ ملاحظہ فرمائیں۔
الجواب : عشاء کو وسطیٰ کہنے والوں سے عرض یہ ہے کہ خود حضرت ابوہریرہ (رض) کا فتویٰ ان روایات کے خلاف ہے پس ان روایات سے عشاء کے صلوۃ وسطیٰ پر استدلال درست نہیں روایت جابر (رض) میں ہے کہ یہ دھمکی اور حالت کے لیے تھی نماز کے لیے نہ تھی۔