۹۷۸ : وَحَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ : ثَنَا اللَّیْثُ، قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ الْہَادِ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : (الصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃُ الْعَصْرِ) .فَلَمَّا تَضَادَّ مَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ دَلَّ ھٰذَا عَلٰی أَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہٗ فِیْہِ شَیْئٌ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَرَجَعْنَا إِلٰی مَا رُوِیَ عَنْ غَیْرِہٖ۔
٩٧٨: ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے روایت نقل کی ہے کہ صلوۃ وسطیٰ صلوۃ عصر ہے۔ جب ابن عمر (رض) سے متضاد روایات وارد ہوئیں تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ اس سلسلہ میں ان کو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات نہ پہنچی تھی۔ اب ان کے علاوہ اصحاب کرام (رض) کی مرویات کو دیکھتے ہیں۔
اب یہ روایت ابن عمر (رض) کی پہلی روایت کے خلاف ہے۔