۹۸۳ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، عَنِ الرَّبِیْعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ قَالَ : صَلَّیْتُ خَلْفَ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ صَلَاۃَ الصُّبْحِ، فَقَالَ رَجُلٌ إِلٰی جَنْبِیْ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (ھٰذِہِ الصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی) .فَکَانَ مَا ذَہَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مِنْ ھٰذَا ہُوَ قَوْلُ اللّٰہِ - عَزَّ وَجَلَّ - (حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ) [البقرۃ : ۲۳۸] فَکَانَ ذٰلِکَ الْقُنُوْتُ عِنْدَہٗ ہُوَ قُنُوْتُ الصُّبْحِ فَجَعَلَ بِذٰلِکَ الصَّلَاۃَ الْوُسْطٰی ہِیَ الصَّلَاۃُ الَّتِیْ فِیْہَا الْقُنُوْتُ عِنْدَہٗ .وَقَدْ خُوْلِفَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ھٰذِہِ الْآیَۃِ، فِیْمَ نَزَلَتْ؟
٩٨٣: ابوالعالیہ کہتے ہیں میں نے ابو موسیٰ اشعری (رض) کے پیچھے نماز صبح ادا کی ایک صحابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو میرے پہلو میں تھے کہنے لگے یہ صلوۃ وسطیٰ ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اپنے استدلال میں آیت : ” حافظوا علی الصلوات “ کو پیش کیا اور ان کے ہاں قنوت سے صبح کا قنوت مراد ہے۔ جب قنوت سے صبح کا قنوت مراد ہے تو جس نماز میں وہ قنوت پایا جاتا ہے وہ نماز صلوٰۃ وسطیٰ ہے۔ اس آیت کے شان نزول میں ابن عباس (رض) کے خلاف روایات بھی موجود ہیں ‘ ملاحظہ ہوں۔
تخریج : تفسیر طبری ٢؍٥٦٥۔
حاصل روایات : ابن عباس (رض) کی روایت سے نماز فجر کا صلوۃ وسطیٰ ہونا معلوم ہو رہا ہے اس کی وجہ : { حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰیقوَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ } [البقرہ : ٢٣٨] ہے انھوں نے اس نماز کی وجہ سے جس میں قنوت پڑھی جاتی ہے اس کو صلوۃ وسطیٰ قرار دیا۔
روایات ابن عباس (رض) کا جواب :
جواب نمبر ١: اس آیت کا شان نزول اور بیان کیا ہے قنوت کو سکوت کے معنی میں لیا ہے پہلے نیت باندھ لینے کے بعد گفتگو کی اجازت تھی جب یہ آیت اتری تو کلام سے روک دیا گیا جیسا کہ مندرجہ ذیل روایت سے ثابت ہوتا ہے روایت زید بن ارقم (رض) ۔