hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 998

.

الطحاوي

998
Al Tahawi
۹۹۸ : فَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ : ثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیْدِ، قَالَ، ثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمًا یُحَدِّثُ عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ : قَاتَلْنَا الْأَحْزَابَ فَشَغَلُوْنَا عَنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ حَتّٰی کَرَبَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِیْبَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : (اللّٰہُمَّ امْلَأْ قُلُوْبَ الَّذِیْنَ شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی نَارًا، وَامْلَأْ بُیُوْتَہُمْ نَارًا، وَامْلَأْ قُبُوْرَہُمْ نَارًا) ، قَالَ : عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : کُنَّا نَرٰی أَنَّہَا صَلَاۃُ الْفَجْرِ .فَھٰذَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ أَخْبَرَ أَنَّہُمْ کَانُوْا یَرَوْنَہَا قَبْلَ قَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھٰذَا الصُّبْحَ، حَتّٰی سَمِعُوْا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَئِذٍ یَقُوْلُ ھٰذَا، فَعَلِمُوْا بِذٰلِکَ أَنَّہَا الْعَصْرُ .
٩٩٨: زر نے حضرت علی مرتضیٰ سے روایت کی ہے کہ غزوہ احزاب میں ہم کفار سے قتال میں مشغول رہے جس سے نماز عصر جاتی رہی یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب پہنچ گیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح بددعا فرمائی ” اللہم املأ قلوب الذین شغلونا عن الصلاۃ الوسطٰی نارا واملأ بیوتہم نارا واملأ قبورہم ناراً اے اللہ جنہوں نے ہمیں صلوۃ وسطیٰ سے مشغول کردیا ان کے دلوں ‘ گھروں اور قبور کو آگ سے بھر دے ۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ ہم خیال کرتے تھے کہ صلوۃ فجر صلوۃ وسطیٰ ہے (مگر اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ وہ نماز عصر ہے) یہ حضرت علی (رض) ہیں ‘ جو فرما رہے ہیں کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد سے پہلے اسے نماز صبح خیال کرتے تھے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد اس سے متعلق سنا تو اس سے انھوں نے جان لیا کہ وہ نماز عصر ہے ‘ اس کے متعلق روایات ملاحظہ ہوں۔
تخریج : بخاری فی الجہاد باب ٩٨‘ المغازی باب ٢٩‘ مسلم فی المساجد و مواضع الصلاۃ نمبر ٢٠٦‘ ترمذی فی تفسیر وسورۃ نمبر ٢‘ باب ٣١‘ نسائی فی الصلاۃ باب ١٤‘ ابن ماجہ فی الصلاۃ باب ٦‘ نمبر ٦٨٤‘ مسند احمد ١؍٣٠١۔
حاصل روایات : یہ ہے کہ علی (رض) کے ارشاد سے معلوم ہوا کہ کہ وہ نماز فجر کو صلوۃ وسطیٰ خیال کرتے تھے مگر اس ارشاد نبوت کے بعد انھوں نے جان لیا کہ صلوۃ وسطیٰ نماز عصر ہے۔
نوٹ : اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جن صحابہ کرام (رض) سے اور کسی نماز کے متعلق یہ ارشاد منقول ہے وہ یا تو اس ارشاد سے پہلے کا ہے یا ان کو یہ ارشاد معلوم نہیں ہوا۔