حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ . وَفِي الْبَاب: عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْبُكَاءَ عَلَى الْمَيِّتِ، قَالُوا: الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَذَهَبُوا إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: أَرْجُو إِنْ كَانَ يَنْهَاهُمْ فِي حَيَاتِهِ أَنْ لَا يَكُونَ عَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ.
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عمر (رض) کی حدیث صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر اور عمران بن حصین (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے میت پر رونے کو مکروہ (تحریمی) قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میت کو اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ اور وہ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، ٤- اور ابن مبارک کہتے ہیں : مجھے امید ہے کہ اگر وہ (میت) اپنی زندگی میں لوگوں کو اس سے روکتا رہا ہو تو اس پر اس میں سے کچھ نہیں ہوگا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجنائز ١٤ (١٨٥١) (تحفة الأشراف : ١٠٥٢٧) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/الجنائز ٣٢ (١٢٨٧) ، و ٣٣ (١٢٩٠، ١٢٩١) ، صحیح مسلم/الجنائز ٩ (٩٢٧) ، سنن النسائی/الجنائز ١٤ (١٨٤٩) ، و ١٥ (١٨٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٤ (١٥٩٣) ، ( تحفة الأشراف : ٩٠٣١) ، مسند احمد (١/٢٦، ٣٦، ٤٧، ٥٠، ٥١، ٥٤) ، من غیر ہذا الوجہ۔ و راجع أیضا مسند احمد (٦/٢٨١) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1593) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1002