حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ)، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَانُوا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ خَطَأٌ، أَخْطَأَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَمْشِي أَمَامَ الْجَنَازَةِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: هَذَا أَصَحُّ.
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ، ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) جنازے کے آگے چلتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : یہ حدیث غلط ہے اس میں محمد بن بکر نے غلطی کی ہے۔ یہ حدیث یونس سے روایت کی جاتی ہے، اور یونس زہری سے (مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ، ابوبکر اور عمر جنازے کے آگے چلتے تھے۔ زہری کہتے ہیں : مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی ہے کہ ان کے والد جنازے کے آگے آگے چلتے تھے، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : یہ زیادہ صحیح ہے۔ (دیکھئیے سابقہ حدیث ١٠٠٩) تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٦ (١٤٨٣) (تحفة الأشراف : ١٥٦٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1483) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1010