حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَرَأَ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ هُوَ: أَبُو شَيْبَةَ الْوَاسِطِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَالصَّحِيحُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: مِنَ السُّنَّةِ الْقِرَاءَةُ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جنازے میں سورة فاتحہ پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ٢- ابراہیم بن عثمان ہی ابوشیبہ واسطی ہیں اور وہ منکر الحدیث ہیں۔ صحیح چیز جو ابن عباس سے مروی ہے کہ ـجنازے کی نماز میں سورۃ فاتحہپڑھناسنت میں سے ہے، ٣- اس باب میں ام شریک سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٢ (١٤٩٥) ، انظر الحدیث الآتي ( تحفة الأشراف : ٦٤٦٨) (صحیح) (اگلی اثر کی متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابراہیم بن عثمان “ ضعیف ہیں) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1495) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1026