حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟ فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَزُهَيْرِ بْنِ عُثْمَانَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ: وَزْنُ ثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَثُلُثٍ، وقَالَ إِسْحَاق: هُوَ وَزْنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ وَثُلُثٍ.
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف کے جسم پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : میں نے ایک عورت سے کھجور کی ایک گٹھلی سونے کے عوض شادی کرلی ہے، آپ نے فرمایا : اللہ تمہیں برکت عطا کرے، ولیمہ ١ ؎ کرو خواہ ایک ہی بکری کا ہو ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، جابر اور زہیر بن عثمان (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- احمد بن حنبل کہتے ہیں : گٹھلی بھر سونے کا وزن تین درہم اور تہائی درہم وزن کے برابر ہوتا ہے، ٤- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : پانچ درہم اور تہائی درہم کے وزن کے برابر ہوتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ٥٦ (٥١٥٥) ، والدعوات ٥٣ (٦٣٨٦) ، صحیح مسلم/النکاح ٣ (١٤٢٧) ، سنن النسائی/النکاح ٧٤ (٣٣٧٤، ٣٣٧٥) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٤ (١٩٠٧) ، ( تحفة الأشراف : ٢٨٨) ، سنن الدارمی/النکاح ٢٢ (٢٢٥٠) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/البیوع ١ (٢٠٤٩) ، ومناقب الأنصار ٣ (٣٧٨١) ، والنکاح ٤٩ (٥١٣٨) ، و ٥٤ (٥١٥٣) ، و ٦٨ (٥١٦٨) ، والأدب ٦٧ (٦٠٨٢) ، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور) ، سنن ابی داود/ النکاح ٣٠ (٢١٩٠) ، مسند احمد (٣/١٦٥، ١٩٠، ٢٠٥، ٢٧١) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٨ (٢١٠٨) من غیر ہذا الوجہ۔ وضاحت : ١ ؎ : «أولم ولو بشأة» میں «لو» تقلیل کے لیے آیا ہے یعنی کم از کم ایک بکری ذبح کرو ، لیکن نبی اکرم ﷺ نے صفیہ کے ولیمہ میں صرف ستو اور کھجور پر اکتفا کیا ، اس لیے مستحب یہ ہے کہ ولیمہ شوہر کی مالی حیثیت کے حسب حال ہو ، عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کی مالی حالت کے پیش نظر ایک بکری کا ولیمہ کم تھا اسی لیے آپ نے ان سے «أولم ولو بشأة» فرمایا۔ ٢ ؎ : شادی بیاہ کے موقع پر جو کھانا کھلایا جاتا ہے اسے ولیمہ کہتے ہیں ، یہ «ولم» (واؤ کے فتحہ اور لام کے سکون کے ساتھ ) سے مشتق ہے جس کے معنی اکٹھا اور جمع ہونے کے ہیں ، چونکہ میاں بیوی اکٹھا ہوتے ہیں اس لیے اس کو ولیمہ کہتے ہیں ، ولیمہ کا صحیح وقت خلوت صحیحہ کے بعد ہے جمہور کے نزدیک ولیمہ سنت ہے اور بعض نے اسے واجب کہا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1907) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1094