حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا .
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے، رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو اختیار دیا، تو انہوں نے خود کو اختیار کیا، (عروہ کہتے ہیں) اگر بریرہ کے شوہر آزاد ہوتے تو آپ بریرہ کو اختیار نہ دیتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/العتق ٢ (١٥٠٤/٩) ، سنن ابی داود/ الطلاق ١٩ (٢٢٣٣) ، سنن النسائی/الطلاق ٣١ (٣٤٨١) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٧٧٠) (صحیح) وأخرجہ مطولا ومختصرا کل من : صحیح البخاری/العتق ١٠ (٢٥٣٦) ، والفرائض ٢٢ (٦٧٥٨) ، صحیح مسلم/العتق (المصدر المذکور) (٥٠٤/١٠) ، مسند احمد (٦/٤٦، ١٧٨) ، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٧) من غیر ھذا الوجہ، وانظر أیضا مایأتي برقم ١٢٥٦ و ٢١٢٤ و ٢١٢٥ وضاحت : ١ ؎ : نسائی نے سنن میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ آخری فقرہ حدیث میں مدرج ہے ، یہ عروہ کا قول ہے ، اور ابوداؤد نے بھی اس کی وضاحت کردی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، لکن قوله : ولو کان .... مدرج من قول عروة، الإرواء (1873) ، صحيح أبي داود (1935) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1154