حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ ؟، قَالَ: الْحَمْوُ الْمَوْتُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا مَعْنَى كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ عَلَى نَحْوِ مَا رُوِيَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ الْحَمْوُ يُقَالُ: هُوَ أَخُو الزَّوْجِ كَأَنَّهُ كَرِهَ لَهُ أَنْ يَخْلُوَ بِهَا.
عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عورتوں کے پاس خلوت (تنہائی) میں آنے سے بچو ، اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! دیور (شوہر کے بھائی) کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : دیور موت ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عقبہ بن عامر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، جابر اور عمرو بن العاص (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- عورتوں کے پاس خلوت (تنہائی) میں آنے کی حرمت کا مطلب وہی ہے جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت (تنہائی) میں ہوتا ہے تو اس کا تیسرا شیطان ہوتا ہے ، ٤- «حمو» شوہر کے بھائی یعنی دیور کو کہتے ہیں، گویا آپ نے دیور کے بھاوج کے ساتھ تنہائی میں ہونے کو حرام قرار دیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ١١١ (٥٢٣٢) ، صحیح مسلم/السلام ٨ (٢١٧٢) (تحفة الأشراف : ٩٩٥٨) مسند احمد (٤/١٤٩، ١٥٣) ، سنن الدارمی/الاستئذان ١٤ (٢٦٨٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح غاية المرام (181) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1171