حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، أَوْ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ: وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ يُكْنَى: أَبَا عَتَّابٍ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ (لونڈی) کو خریدنا چاہا، تو بریرہ کے مالکوں نے ولاء ١ ؎ کی شرط لگائی تو نبی اکرم ﷺ نے عائشہ سے فرمایا : تم اسے خرید لو، (اور آزاد کر دو ) اس لیے کہ ولاء تو اسی کا ہوگا جو قیمت ادا کرے، یا جو نعمت (آزاد کرنے) کا مالک ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی حدیث مروی ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/کفارات الأیمان ٨ (٦٧١٧) ، سنن النسائی/الطلاق ٣٠ (٣٤٧٩) ، (وانظر أیضا ما یقدم برقم : ١١٥٤، وما یأتي برقم : ٢١٢٤ و ٢١٢٥) (تحفة الأشراف : ١٥٩٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑ کر مرے ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بائع کے لیے ولاء کی شرط لگانا صحیح نہیں ، ولاء اسی کا ہوگا جو خرید کر آزاد کرے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2521) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1256