حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ ابْنَةُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ: لَا إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي ، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ. قَالَ قُتَيْبَةُ: قَالَ اللَّيْثُ: لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ فَعَلَتْهُ هِيَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَرَوَى الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا اور کہا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں۔ تو کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، یہ تو محض ایک رگ ہے، لہٰذا تم غسل کرو پھر نماز پڑھو ، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابن شہاب زہری نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ (رض) کو ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، بلکہ یہ ایسا عمل تھا جسے وہ اپنے طور پر کیا کرتی تھیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- نیز یہ حدیث زہری سے «عن عمرة عن عائشہ» کے طریق سے بھی روایت کی جاتی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا، ٢- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مستحاضہ ہر نماز کے وقت غسل کرے گی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ١٤ (٣٣٤) ، سنن ابی داود/ الطہارة ١٠٨ (٢٧٩) ، و ١١١ (٢٨٨) ، سنن النسائی/الطہارة ١٣٤ (٢٠٧) ، والحیض ٣ (٣٥٣) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٦ (٦٢٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٥٨٣) ، مسند احمد (٦/٨٣، ١٤١، ١٨٧) ، سنن الدارمی/الطہارة ٨٣ (٨٠٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : کسی بھی صحیح روایت میں نہیں آتا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ام حبیبہ (رض) کو ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا تھا ، جو روایتیں اس بارے میں ہیں سب ضعیف ہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ وہ بطور خود ( استحبابی طور سے ) ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (626) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 129