حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ لَيْثًا يُحَدِّثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْأَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لِأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي، قَالَ: أَهْرِقْ الْخَمْرَ، وَاكْسِرِ الدِّنَانَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي طَلْحَةَ رَوَىالثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ عِنْدَهُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ابوطلحہ (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی تھی جو میری پرورش میں ہیں۔ (اس کا کیا حکم ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : شراب بہا دو اور مٹکے توڑ دو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابوطلحہ (رض) کی اس حدیث کو ثوری نے بطریق : «السدي، عن يحيى بن عباد، عن أنس» روایت کیا ہے کہ ابوطلحہ آپ کے پاس تھے ١ ؎، اور یہ لیث کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، عائشہ، ابوسعید، ابن مسعود، ابن عمر، اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٣٧٧٢) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اس اعتبار سے یہ حدیث انس کی مسانید میں سے ہوگی نہ کہ ابوطلحہ کی۔ قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (3659 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1293