حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مِنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) إِذَا حِضْتُ يَأْمُرُنِي أَنْ أَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَمَيْمُونَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ مجھے جب حیض آتا تو رسول اللہ ﷺ مجھے تہ بند باندھنے کا حکم دیتے پھر مجھ سے چمٹتے اور بوس و کنار کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام و تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٢- اس باب میں ام سلمہ اور میمونہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ٥ (٣٠٠) ، صحیح مسلم/الحیض ١ (٢٩٣) ، سنن ابی داود/ الطہارة ١٠٧ (٢٦٧) ، سنن النسائی/الطہارة ١٨٠ (٢٨٦) ، والحیض ١٢ (٣٧٣) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٢١ (٦٣٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٩٨٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (260) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 132