حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ . قَالَ رَبِيعَةُ: وَأَخْبَرَنِي ابْنٌ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: وَجْدنَا فِي كِتَاب سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ)، قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسُرَّقَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ . حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ دیا۔ ربیعہ کہتے ہیں : مجھے سعد بن عبادہ کے بیٹے نے خبر دی کہ ہم نے سعد (رض) کی کتاب میں لکھا پایا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ دیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس باب میں علی، جابر، ابن عباس اور سرق (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢ - ابوہریرہ (رض) کی حدیث کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ کیا حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأقضیة ٢١ (٣٦١٠) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣١ (٢٣٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ اس صورت میں ہے جب مدعی کے پاس صرف ایک گواہ ہو تو دوسرے گواہ کے بدلے مدعی سے قسم لے کر قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا ، جمہور کا یہی مذہب ہے کہ مالی معاملات میں ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے فیصلہ درست ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2368 - 2671) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1343