حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا، أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُعَاوِيَةَ.
سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عمریٰ ١ ؎ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہوجاتا ہے ، یا فرمایا : عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کی میراث ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں زید بن ثابت، جابر، ابوہریرہ، عائشہ، عبداللہ بن زبیر اور معاویہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ البیوع ٨٧ (٣٥٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٩٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کسی کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز ہبہ کرنے کو عمریٰ کہتے ہیں ، مثلاً یوں کہے کہ میں نے تمہیں یہ گھر تمہاری عمر بھر کے لیے دے دیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1349