حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ، صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ، وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ، وَوَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے : ایک صدقہ جاریہ ١ ؎ ہے، دوسرا ایسا علم ہے ٢ ؎ جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرا نیک و صالح اولاد ہے ٣ ؎ جو اس کے لیے دعا کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الوصایا ٣ (١٦٣١) ، سنن ابی داود/ الوصایا ١٤ (٢٨٨٠) ، سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٧٥) ، و مسند احمد (٢/٣١٦، ٣٥٠، ٣٧٢) ، وسنن الدارمی/المقدمة ٤٦ (٥٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : صدقہ جاریہ یعنی ایسا صدقہ جس کو عوام کی بھلائی کے لیے وقف کردیا جائے ، مثلاً سرائے کی تعمیر ، کنواں کھدوانا ، نل لگوانا ، مساجد و مدارس اور یتیم خانوں کی تعمیر کروانا ، اسپتال کی تعمیر ، پل اور سڑک وغیرہ بنوانا ، ان میں سے جو کام بھی وہ اپنی زندگی میں کر جائے یا اس کے کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ سب صدقہ جاریہ میں شمار ہوں گے۔ ٢ ؎ : علم میں لوگوں کو تعلیم دینا ، طلباء کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا ، تصنیف و تالیف اور درس و تدریس دعوت و تبلیغ کا سلسلہ قائم کرنا ، مدارس کی تعمیر کرنا ، دینی کتب کی طباعت اور ان کی نشر و اشاعت کا بندوبست کرنا وغیرہ امور سبھی داخل ہیں۔ ٣ ؎ : نیک اولاد میں بیٹا ، بیٹی پوتا ، پوتی ، نواسا نواسی وغیرہ کے علاوہ روحانی اولاد بھی شامل ہے جنہیں علم دین سکھایا ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1376