حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحْكَمُ بَيْنَ الْعِبَادِ فِي الدِّمَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا، وَرَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (آخرت میں) بندوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - عبداللہ کی حدیث حسن صحیح ہے، اسی طرح کئی لوگوں نے اعمش سے مرفوعاً روایت کی ہے، ٢ - اور بعض نے اعمش سے روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ٤٨ (٦٥٣٣) ، والدیات ١ (٦٨٦٤) ، صحیح مسلم/القسامة ٨ (١٦٧٨) ، سنن النسائی/المحاربة ٢ (٣٩٩٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١ (٢٦١٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٤٦) ، و مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤١، ٤٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث «أول ما يحاسب به العبد صلاته» کے منافی نہیں ہے ، کیونکہ خون کے فیصلہ کا تعلق لوگوں کے آپسی حقوق سے ہے جب کہ صلاۃ والی حدیث کا تعلق خالق کائنات کے حقوق سے ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کے حقوق میں سے سب سے بڑی اور اہم چیز جس کے بارے میں سوال ہوگا وہ خون ہے ، اسی طرح حقوق اللہ میں سے سب سے بڑی چیز جس کے بارے میں سب سے پہلے سوال ہوگا وہ صلاۃ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2615) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1396