حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ: لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ .
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٢ (٢٦٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٥٨٢) ، و مسند احمد (١/١٦، ٢٣) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ ” حجاج بن ارطاة متکلم فیہ راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ بیٹے کے وجود کا سبب ہے ، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ بیٹا باپ کے خاتمے کا سبب بنے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2662) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1400