حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ): أَنَّهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَضَرَبَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ ، وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ، اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: كَأَخَفِّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ حَدَّ السَّكْرَانِ ثَمَانُونَ.
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو چھڑیوں سے چالیس کے قریب مارا، ابوبکر (رض) نے بھی (اپنے دور خلافت میں) ایسا ہی کیا، پھر جب عمر (رض) خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس سلسلے میں لوگوں سے مشورہ کیا، چناچہ عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا : حدوں میں سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہیں، چناچہ عمر نے اسی کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ شرابی کی حد اسی کوڑے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ٢ (٦٧٧١) ، (بدون قصة الاستشارة) ، صحیح مسلم/الحدود ٨ (١٧٠٦) سنن ابی داود/ الحدود ٣٦ (٤٤٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٦ (٢٥٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٤) ، و مسند احمد (٣/١١٥، ١٨٠، ٢٤٧، ٢٧٢- ٢٧٣) ، سنن الدارمی/الحدود ٩ (٢٣٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سلسلہ میں صحیح قول یہ ہے کہ شرابی کی حد چالیس کوڑے ہیں ، البتہ امام اس سے زائد اسی کوڑے تک کی سزا دے سکتا ہے ، لیکن اس کا انحصار حسب ضرورت امام کے اپنے اجتہاد پر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2377) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1443