حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ، أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ ؟ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِسَارِقٍ، فَقُطِعَتْ يَدُهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيِّ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ: هُوَ أَخُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ شَامِيٌّ.
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے پوچھا : کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر آپ نے حکم دیا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عمر بن علی مقدمی ہی کی روایت سے جانتے ہیں، انہوں نے اسے حجاج بن ارطاۃ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحدود ٢١ (٤٤١١) ، سنن النسائی/قطع السارق ١٩ (٤٩٨٥) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٣ (٢٥٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٩) ، و مسند احمد (٦/١٩) (ضعیف) (سند میں ” حجاج بن ارطاة “ ضعیف، اور ” عبدالرحمن بن محیریز “ مجہول ہیں) دیکھئے : الإرواء : ٢٤٣٢ ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (2587) ، المشکاة (3605 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1447