حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي مُوسَى، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔ اس باب میں ابن عمر، ابن زبیر، ابوہریرہ اور سلمہ بن الاکوع (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ٧ (٧٠٧١) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤٢ (١٠٠) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٩ (٢٥٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٠٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مسلمانوں کے خلاف ناحق ہتھیار اٹھانے والا اگر اسے حلال سمجھ کر ان سے صف آرا ہے تو اس کے کافر ہونے میں کسی کو شبہ نہیں اور اگر اس کا یہ عمل کسی دنیاوی طمع و حرص کی بناء پر ہے تو اس کا شمار باغیوں میں سے ہوگا اور اس سے قتال جائز ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2575 - 2577) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1459