حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا يُرَخِّصُونَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ هُوَ: الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں مجوسیوں کے کتے کے شکار سے منع کیا گیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ مجوسی کے کتے کے شکار کی اجازت نہیں دیتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصید ٤ (٣٢٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٧١) (ضعیف) (سند میں دو راوی ” شریک القاضی “ اور ” حجاج بن ارطاة “ ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (3209) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1466