حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ أَكْلِ الْمُجَثَّمَةِ: وَهِيَ الَّتِي تُصْبَرُ بِالنَّبْلِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «مجثمة» کے کھانے سے منع فرمایا۔ «مجثمة» اس جانور یا پرندہ کو کہتے ہیں، جسے باندھ کر تیر سے مارا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابو الدرداء کی حدیث غریب ہے، ٢ - اس باب میں عرباض بن ساریہ، انس، ابن عمر، ابن عباس، جابر اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٢٣٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : «مصبورہ» : وہ جانور ہے جسے باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جاتی ہو یہاں تک کہ وہ مرجاتا ہو ، ایسے جانور کے کھانے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے ، کیونکہ یہ غیر مذبوح ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2391) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1473