حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ثابت بن ضحاک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بندہ کے اختیار میں جو چیز نہیں ہے اس میں نذر صحیح نہیں ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٤٤ (٦٠٤٧) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤٧ (١١٠) ، سنن ابی داود/ الأیمان ٩ (٣٢٥٧) ، سنن النسائی/الأیمان ٧ (٣٨٠١) ، و ٣١ (٣٨٤٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٦٢) ، و مسند احمد (٤/٣٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی نذر مانتے وقت جو چیز بندے کے اختیار میں نہیں ہے اس میں نذر صحیح نہیں ہے ، یہاں تک کہ اگر اس چیز پر اختیار حاصل ہوجائے تو بھی وہ نذر پوری نہیں کی جائے گی ، اور نہ ہی اس پر کفارہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2575) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1527