حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَا، وَالْكَعْبَةِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا يُحْلَفُ بِغَيْرِ اللَّهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَفُسِّرَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ قَوْلَهُ: فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ ، عَلَى التَّغْلِيظِ وَالْحُجَّةُ، فِي ذَلِكَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ)، سَمِعَ عُمَرَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الرِّيَاءَ شِرْكٌ، وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذِهِ الْآيَةَ: فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا سورة الكهف آية 110 قَالَ: لَا يُرَائِي.
سعد بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) نے ایک آدمی کو کہتے سنا : ایسا نہیں قسم ہے کعبہ کی، تو اس سے کہا : غیر اللہ کی قسم نہ کھائی جائے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کی تفسیر بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان «فقد کفر أو أشرك» تنبیہ و تغلیظ کے طور پر ہے، اس کی دلیل ابن عمر (رض) کی حدیث ہے، نبی اکرم ﷺ نے عمر کو کہتے سنا : میرے باپ کی قسم، میرے باپ کی قسم ! تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ باپ، دادا کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے ، نیز ابوہریرہ (رض) کی (روایت) کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے لات اور عزیٰ کی قسم کھائی وہ «لا إله إلا الله» کہے، امام ترمذی کہتے ہیں : ٣ - یہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کی طرح ہے بیشک ریا، شرک ہے، ٤ - بعض اہل علم نے آیت کریمہ «فمن کان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا» (الکہف : ١١٠ ) کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ ریا نہ کرے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأیمان ٥ (٣٢٥١) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٤٥) ، و مسند احمد ٢/٨٧، ١٢٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2561) ، الصحيحة (2042) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1535