حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَثِيرًا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَحْلِفُ بِهَذِهِ الْيَمِينِ، لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قسم کھاتے تھے تو اکثر «لا ومقلب القلوب» کہتے تھے نہیں، دلوں کے بدلنے والے کی قسم ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/القدر ١٤ (٦٦١٧) ، والأیمان ٣ (٦٦٢٨) ، والتوحید ١١ (٧٣٩١) ، سنن ابی داود/ الأیمان ١٢ (٣٢٦٣) ، سنن النسائی/الأیمان ١ (٣٧٧٠) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١ (٢٠٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٢٤) ، و مسند احمد (٢/٢٦، ٦٧، ٦٨، ١٢٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے قسم کھانے کا انداز و طریقہ بیان ہوا ہے کہ پہلے سے جو بات چل رہی تھی اگر صحیح نہ ہوتی تو آپ پہلے لفظ «لا» سے اس کی نفی اور تردید فرماتے ، پھر اللہ کے صفاتی نام سے اس کی قسم کھاتے ، یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی اسماء سے قسم کھانی جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2092) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1540