حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، وَلَا مِنْ أَبِي بَكْرٍ، وَلَا مِنْ عُمَرَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَخَبَّابٍ، وَأَبِي بَرْزَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَمَنْ بَعْدَهُمْ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِهِ الَّذِي رَوَى، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ): مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ ، قَالَ يَحْيَى: وَرَوَى لَهُ سُفْيَانُ، وَزَائِدَةُ، وَلَمْ يَرَ يَحْيَى بِحَدِيثِهِ بَأْسًا، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) فِي تَعْجِيلِ الظُّهْرِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ظہر کو رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر جلدی کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا، اور نہ ابوبکر اور عمر (رض) سے بڑھ کر جلدی کرنے والا کسی کو دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں جابر بن عبداللہ، خباب، ابوبرزہ، ابن مسعود، زید بن ثابت، انس اور جابر بن سمرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اور عائشہ (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- اور اسی کو صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں اہل علم نے اختیار کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر : مسند احمد (٦/١٣٥، ٢١٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٩٣٤) (ضعیف الإسناد) (سند کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ اس کے راوی ” حکیم بن جبیر “ ضعیف ہیں، لیکن دوسری احادیث جیسا کہ مولف نے ذکر کیا ہے سے یہ حدیث ثابت ہے۔ ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 155