حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) كَانَ فِي سَفَرٍ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَرَادَ بِلالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ: أَبْرِدْ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَبْرِدْ فِي الظُّهْرِ ، قَالَ: حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، ساتھ میں بلال (رض) بھی تھے۔ بلال (رض) نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا : ٹھنڈا ہوجانے دو ۔ انہوں نے پھر اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے پھر فرمایا : ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھ ۔ وہ کہتے ہیں (ظہر تاخیر سے پڑھی گئی) یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا تب انہوں نے اقامت کہی پھر آپ نے نماز پڑھی، پھر فرمایا : گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے۔ لہٰذا نماز ٹھنڈے میں پڑھا کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ٩ (٥٣٥) ، صحیح مسلم/المساجد ٣٢ (٦١٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٤ (٤٠١) ، ( تحفة الأشراف : ١١٩١٤) ، مسند احمد (٥/١٥٥، ١٦٢، ١٧٦) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (429) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 158