حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع (رض) سے پوچھا : حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کس بات پر بیعت کی تھی ؟ انہوں نے کہا : موت پر ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١١٠ (٢٩٦٠) ، والمغازي ٣٥ (٤١٦٩) ، والأحکام ٤٣ (٧٢٠٦) ، و ٤٤ (٧٢٠٨) ، صحیح مسلم/الإمارة ١٨ (١٨٦٠) ، سنن النسائی/البیعة ٨ (٤١٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٣٦) ، و مسند احمد (٤/٤٧، ٥١، ٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے ، کیونکہ اس حدیث کا بھی مفہوم یہ ہے کہ ہم نے میدان سے نہ بھاگنے کی بیعت کی تھی ، بھلے ہم اپنی جان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھو بیٹھیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1592