حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ): نَهَى عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ٢٩ (٢١١٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٨١٦) ، و مسند احمد (٣/٣١٨، ٣٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے ، چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہوسکتے ہیں ، ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے ، اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2185) ، صحيح أبي داود (2310) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1710