حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: مَاتَتْ شَاةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) لِأَهْلِهَا: أَلَا نَزَعْتُمْ جِلْدَهَا ثُمَّ دَبَغْتُمُوهُ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ .
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک بکری مرگئی، رسول اللہ ﷺ نے بکری والے سے کہا : تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی ؟ پھر تم دباغت دے کر اس سے فائدہ حاصل کرتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٥٩٦٩) ، وانظر : صحیح البخاری/الزکاة ٦١ (١٤٩٢) ، والبیوع ١٠١ (٢٢٢١) ، والذبائح ٣٠ (٥٥٣١، ٥٥٣٢) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٣-٣٦٥) ، سنن ابی داود/ اللبا ٤١ (٤١٢١) ، سنن النسائی/الفرع ٤ (٤٢٤٠-٤٢٤٤) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦١٠) ، وط/الصید ٦ (١٦) ، مسند احمد (١/٢٣٧) ، ٣٢٧، ٣٣٠، ٣٦٥، ٣٦٦، ٣٧٢) ، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٠ (٢٠٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ مردہ جانور کی کھال سے فائدہ دباغت (پکانے) کے بعد ہی اٹھایا جاسکتا ہے ، اور ان روایتوں کو جن میں دباغت (پکانے) کی قید نہیں ہے ، اسی دباغت والی روایت پر محمول کیا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1727