حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ (ﷺ) مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَعُمَرَ، وَابْنِ حُرَيْثٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَرُكَانَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں علی، عمر، ابن حریث، ابن عباس اور رکانہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٨) ، سنن ابی داود/ اللباس ٢٤ (٤٠٧٦) ، سنن النسائی/الحج ١٠٧ (٢٨٧٢) ، والزینة ١٠٩ (٥٣٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٢ (٢٨٢٢) ، واللباس ١٤ (٢٥٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٨٩) ، و مسند احمد (٣/٣٦٣، ٣٨٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے کالی پگڑی پہننے کا جواز ثابت ہوتا ہے ، مکمل کالا لباس نہ پہننا بہتر ہے ، کیونکہ یہ ایک مخصوص جماعت کا ماتمی لباس ہے ، اس لیے اس کی مشابہت سے بچنا اور اجتناب کرنا ضروری ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2822) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1735