حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ (ﷺ) مِنْ وَرِقٍ، وَكَانَ فَصُّهُ حَبَشِيًّا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَبُرَيْدَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ (عقیق) حبشہ کا بنا ہوا تھا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر اور بریدہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٤٨ (٥٨٧٠) ، صحیح مسلم/اللباس ١٥ (٢٠٩٤) ، سنن ابی داود/ الخاتم ١ (٤٢١٦) ، سنن النسائی/الزینة ٤٧ (٥١٩٩) ، و ٧ (٥٢٧٩-٥٢٨٢) سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٤١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٤) ، و مسند احمد (٣/٢٠٩) ، وانظر الحدیث التالي (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : آنے والی انس کی روایت جس میں ذکر ہے کہ نگینہ بھی چاندی کا تھا ، اور باب کی اس روایت میں کوئی تعارض نہیں ہے ، کیونکہ احتمال ہے کہ آپ کے پاس دو قسم کی انگوٹھیاں تھیں ، یا یہ کہا جائے کہ نگینہ چاندی کا تھا ، حبشہ کی جانب نسبت کی وجہ یہ ہے کہ حبشی نقش و نگار یا طرز پر بنا ہوا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3646) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1739