حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ فَلْتَكُنْ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جب کوئی جوتا پہنے تو داہنے پیر سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں سے شروع کرے، پہننے میں داہنا پاؤں پہلے اور اتارنے میں پیچھے ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٣٩ (٥٨٥٤) ، سنن ابی داود/ اللباس ٤٤ (٤١٣٩) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٨ (٣٦١٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨١٤) ، وط/اللباس ٧ (١٥) ، و مسند احمد (٢/٢٨٣، ٤٣٠، ٤٧٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جوتا پہننا پاؤں کے لیے عزت و تکریم کا باعث ہے ، اس لحاظ سے اس تکریم کا مستحق داہنا پاؤں سب سے زیادہ ہے ، کیونکہ دایاں پاؤں بائیں سے بہتر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3616) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1779