حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، وَأَبِي مُوسَى، وَجَهْجَاهٍ الْغِفَارِيِّ، وَمَيْمُونَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کافر سات آنت میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابوسعید، ابو بصرہ غفاری، ابوموسیٰ ، جہجاہ غفاری، میمونہ اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ١٢ (٥٣٩٣-٥٣٩٥) ، صحیح مسلم/الأشربة ٣٤ (٢٠٦٠) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣ (٣٢٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٨١٥٦) ، و مسند احمد (٢/٢١، ٤٣، ٧٤، ١٤٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : علماء نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں : ( ١ ) مومن اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرتا ہے ، اسی لیے کھانے کی مقدار اگر کم ہے تب بھی اسے آسودگی ہوجاتی ہے ، اور کافر چونکہ اللہ کا نام لیے بغیر کھاتا ہے اس لیے اسے آسودگی نہیں ہوتی ، خواہ کھانے کی مقدار زیادہ ہو یا کم۔ ( ٢ ) مومن دنیاوی حرص طمع سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے ، اسی لیے کم کھاتا ہے ، جب کہ کافر حصول دنیا کا حریص ہوتا ہے اسی لیے زیادہ کھاتا ہے ، ( ٣ ) مومن آخرت کے خوف سے سرشار رہتا ہے اسی لیے وہ کم کھا کر بھی آسودہ ہوجاتا ہے ، جب کہ کافر آخرت سے بےنیاز ہو کر زندگی گزارتا ہے ، اسی لیے وہ بےنیاز ہو کر کھاتا ہے ، پھر بھی آسودہ نہیں ہوتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3257) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1818