حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَتَتَبَّعُ فِي الصَّحْفَةِ يَعْنِي الدُّبَّاءَ فَلَا أَزَالُ أُحِبُّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ وَرُوِيَ أَنَّهُ رَأَى الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَقَالَ لَهُ: مَا هَذَا ؟ قَالَ: هَذَا الدُّبَّاءُ نُكَثِّرُ بِهِ طَعَامَنَا .
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ رکابی میں ڈھونڈ رہے تھے یعنی کدو، اس وقت سے میں اسے ہمیشہ پسند کرتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣ - روایت کی گئی ہے کہ انس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کدو دیکھا تو آپ سے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ کدو ہے ہم اس سے اپنے کھانے کی مقدار بڑھاتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٣٠ (٢٠٩٢) ، والأطعمة ٤ (٥٣٧٩) ، و ٢٥ (٥٤٢٠) ، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ٢١ (٢٠٤١) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٢ (٣٧٨٢) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٦ (٣٣٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٩٨) ، وط/النکاح ٢١ (٥١) ، سنن الدارمی/الأطعمة ١٩ (٢٠٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1850