حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْبَغْدَادِيُّ الصَّاغَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اعمش کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ٥٤ (٣٨٥٢) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٢ (٣٢٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٤٦٤) ، و مسند احمد (٢/٣٤٤) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٧ (٢١٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی کھانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لو ، کیونکہ نہ دھونے سے کھانے کی بو ہاتھوں میں باقی رہے گی ، جو جن و شیاطین کو اپنی طرف مائل کرے گی ، اور ایسی صورت میں ایسا شخص کسی مصیبت سے دوچار ہوسکتا ہے ، اس لیے سوتے وقت اس کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3297) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1860