حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَىابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَسُوَيْدٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابن عمر (رض) کے پاس آیا اور پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ١ ؎، طاؤس کہتے ہیں : اللہ کی قسم میں نے ان سے یہ بات سنی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن ابی اوفی، ابو سعید خدری، سوید، عائشہ، ابن زبیر اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٧/٥٠) ، سنن النسائی/الأشربة ٢٨ (٥٦١٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٩٨) ، و مسند احمد (٢/٢٩، ٣٥، ٤٧، ٥٦، ١٠١، ١٥٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : لیکن شرط یہ ہے کہ وہ نشہ آور ہوجائے ، نبیذ اگر نشہ آور نہیں ہے تو حلال ہے ، نبیذ وہ شراب ہے جو کھجور ، کشمش ، انگور ، شہد ، گیہوں اور جو وغیرہ سے تیار کی جاتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1867