حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَسَعْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر زمزم کا پانی پیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، سعد، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٧٦ (١٦٣٧) ، والأشربة ٦ (٥٦١٧) ، صحیح مسلم/الأشربة ١٥ (٢٠٢٧) ، سنن النسائی/الحج ٦٥ (٢٩٦٧) ، و ٦٦ (٢٩٦٨) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢١ (٣٤٢٢) ، والمؤلف في الشمائل ٣١ (١٩٧، ١٩٨، ١٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٦٧) ، و مسند احمد (١/٢١٤، ٢٢٠، ٣٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ممکن ہے ایسا نبی اکرم ﷺ نے بیان جواز کے لیے کیا ہو ، اس کا بھی امکان ہے کہ بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی ہو ، یا وہاں خشک جگہ نہ رہی ہو ، اس لیے آپ نہ بیٹھے ہوں ، یہ عام خیال بالکل غلط ہے کہ زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3422 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1882