حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً أَنَّهُ نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری (رض) سے مرفوعاً روایت ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے) مشکیزوں سے منہ لگا کر پینے سے منع کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، ابن عباس اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأشربة ٢٣ (٥٦٢٤) ، صحیح مسلم/الأشربة (٢٠٢٣) ، سنن ابی داود/ الأشربة ١٥ (٣٧٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٩ (٣٤١٨) ، (تحفة الأشراف : ٤١٣٨) ، و مسند احمد (٣/٦، ٦٧، ٦٩، ٩٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں : ( ١ ) مشکیزہ سے برابر منہ لگا کر پانی پینے سے پانی کا ذائقہ بدل سکتا ہے ، ( ٢ ) اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں اس میں کوئی زہریلا کیڑا مکوڑا نہ ہو ، ( ٣ ) مشکیزہ کا منہ اگر کشادہ اور بڑا ہے تو اس کے منہ سے پانی پینے کی صورت میں پینے والا گرنے والے پانی کے چھینٹوں سے نہیں بچ سکتا ، اور اس کے حلق میں ضرورت سے زیادہ پانی جاسکتا ہے کہ جس میں اچھو آنے کا خطرہ ہوتا ہے جو نقصان دہ ہوسکتا ہے ، ( ٤ ) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ممانعت بڑے اور کشادہ منہ والے مشکیزہ سے متعلق ہے ، ( ٥ ) کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ رخصت والی روایت اس کے لیے ناسخ ہے ، ( ٦ ) عذر کی صورت میں جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3418) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1890