حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أَسِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : سب سے بہتر سلوک اور سب سے اچھا برتاؤ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ سند صحیح ہے، یہ حدیث ابن عمر (رض) سے کئی سندوں سے آئی ہے، ٢ - اس باب میں ابواسید (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البر والصلة ٤ (٢٥٥٢) ، سنن ابی داود/ الأدب ١٢٩ (٥١٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٥٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الضعيفة (2089 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1903