حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ، قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٤٢ (٥٧) ، والمواقیت ٣ (٥٢٤) ، والزکاة ٢ (١٤٠١) ، والبیوع ٥٨ (٢١٥٧) ، والشروط ١ (٢٧١٤، ٢٧١٥) ، والأحکام ٤٣ (٧٢٠٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٣ (٥٦) ، سنن النسائی/البیعة ٦ (٤١٦١) ، و ١٦ (٤١٧٩) ، و ١٧ (٤١٨٢) ، و ٢٤ (٤١٩٤) (تحفة الأشراف : ٣٢٢٦) ، و مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٦١، ٣٦٤، ٣٦٥) ، وسنن الدارمی/البیوع ٩ (٢٥٨٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مالی اور بدنی عبادتوں میں نماز اور زکاۃ سب سے اصل ہیں ، نیز «لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ» کی شہادت و اعتراف کے بعد ارکان اسلام میں یہ دونوں (زکاۃ و صلاۃ) سب سے اہم ہیں اسی لیے ان کا تذکرہ خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیر خواہی عام وخاص سب کے لیے ہے ، طبرانی میں ہے کہ جریر (رض) نے اپنے غلام کو تین سو درہم کا ایک گھوڑا خریدنے کا حکم دیا ، غلام گھوڑے کے ساتھ گھوڑے کے مالک کو بھی لے آیا ، جریر (رض) نے کہا کہ تمہارا گھوڑا تین سو درہم سے زیادہ قیمت کا ہے ، کیا اسے چار سو میں بیچو گے ؟ وہ راضی ہوگیا ، پھر آپ نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ قیمت کا ہے کیا پانچ سو درہم میں فروخت کرو گے ، چناچہ وہ راضی ہوگیا ، پھر اسی طرح اس کی قیمت بڑھاتے رہے یہاں تک کہ اسے آٹھ سو درہم میں خریدا ، اس سلسلہ میں ان سے عرض کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ پر ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی بیعت کی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1925