حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ مصلی اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے درمیان جھگڑا کرانے کی کوشش میں رہتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں انس اور «سليمان بن عمرو بن الأحوص عن أبيه» سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المنافقین ١٦ (٢٨١٢) (تحفة الأشراف : ٢٣٠٢) ، و مسند احمد (٣/٣١٣، ٣٥٤، ٣٦٦، ٣٨٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مفہوم یہ ہے کہ شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ مسلمان مرتد ہو کر بت پرستی کریں گے ، اور شیطان کو پوجیں گے ، اس مایوسی کے بعد وہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے ، ان کے اندر بزدلی پیدا کرنے ، جنگ وجدال اور فتنوں میں انہیں مشغول رکھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1606) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1937