حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ، قَالَ زُبَيْدٌ: قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جھگڑا کرنا کفر ہے ١ ؎۔ راوی زبید بن حارث کہتے ہیں : میں نے ابو وائل شقیق بن سلمہ سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث عبداللہ بن مسعود (رض) سے سنی ہے ؟ کہا : ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٣٦ (٤٨) ، والأدب ٤٤ (٦٠٤٤) ، والفتن ٨ (٧٠٧٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٨ (٦٤) ، سنن النسائی/المحاربة ٢٧ (٤١١٣-٤١١٦) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٦٩) ، والفتن ٤ (٣٩٣٩) (تحفة الأشراف : ٩٢٤٣) ، و مسند احمد (١/٣٨٥، ٤١١، ٤١٧، ٤٣٣، ٤٣٩، ٤٤٦، ٤٥٤، ٤٦٠) ، ویأتي في الإیمان برقم ٢٦٣٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزت و احترام کا خاص خیال رکھے کیونکہ ناحق کسی کو گالی دینا باعث فسق ہے ، اور ناحق جھگڑا کرنا کفار کا عمل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (69) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1983