حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حیاء ایمان کا ایک جزء ہے اور ایمان والے جنت میں جائیں گے اور بےحیائی کا تعلق ظلم سے ہے اور ظالم جہنم میں جائیں گے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابوبکرہ، ابوامامہ اور عمران بن حصین (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٥٠٤٠، و ١٥٠٥٣، و ١٥٠٨٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جس طرح ایمان صاحب ایمان کو گناہوں سے روکنے کا سبب ہے ، اسی طرح حیاء انسان کو معصیت اور گناہوں سے بچاتا ہے ، بلکہ اس کے لیے ایک طرح کی ڈھال ہے ، اسی وجہ سے حیاء کو ایمان کا جزء کہا گیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (495) ، الروض النضير (746) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2009